مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ باب · حديث 4558
4558 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ قَالَ: " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ». وَقَالَ الْحَسَنُ: لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: «مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنَّا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَكُلْهُ» ". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاکم وقت کی طرف ملنے والے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگرتووه (مال) مانگے بغیر، اور لالچ کے بغیر الله تعالی نے تمہیں دیا ہو، توتم وہ لےلو اور اس کے ذریعے تم مال میں اضافہ کرو۔ حسن فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ آدمی اس صورت میں چل کر اس مال کی طرف نہ گیا ہو، یا اس کے دل میں اس کے لئے لالچ نہ ہو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’ ہم میں سے، جس کی طرف سے، الله تعالی تمہیں مانگے بغیر مال عطا کر دے، توتم اُسے کھا لو (یعنی حاصل کرلو!)‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔
مَا آتَاكَ اللهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلاَ إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ. ← أَمْوَالِ السُّلْطَانِ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ،
Hadith 4558
