مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ يَدْعُو الشَّبْعَانَ وَيَتْرُكُ الْجَيْعَانَ] · حديث 6164
6164 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الْغَنِيُّ، وَيُتْرَكُ الْفَقِيرُ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَلَفْظُهُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الشَّبْعَانُ وَيُحْبَسُ عَنْهُ الْجَيْعَانُ ". وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ الْمِغْوَلِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’سب سے برا کھا ناولیمہ کا کھانا ہوتا ہے ‘جس میں خوشحال شخص کو دعوت دی جاتی ہے اور غریب کو چھوڑ دیا جا تا ہے ‘‘۔یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ’’براکھا ناولیمہ کا کھانا ہے‘ جس میں سیر لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور بھوکوں کو اس سے روک دیا جا تا ہے‘‘ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن سو ید مغولی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کر تے ہوئےنہیں پایا ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے امام احمد اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قراردیا ہے امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسےضعیف کہا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 6164
