مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ التَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ] · حديث 4443
4443 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: " كَذَا وَكَذَا " قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: " أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي " فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ، حَتَّى «قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیّدہ اُمّ سلمہ اپنا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ،ایک شخص آیا اس نے عرض کی :یا رسول اللہ! فلاں فلاں چیز کی زکوٰة کتنی بنے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی اور اتنی بنے گی، اس نے عرض کی : پھر فلاں شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، راوی کہتے ہیں: جب ان لوگوں نے تحقیق کی، تو پتہ چلا کہ اس نے ایک صاع کی زیادتی کی ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا؟ جب تمہارے پاس وصولی کرنے والا ایساشخص آئے گا، جو اس زیادتی سے زیادہ زیادتی تمہارے ساتھ کرے گا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اس طرح نقل کی ہے۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے، اور اس بات نے انہیں پریشان کردیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا، کھیتوں میں ہوگا، اور پھر اپنے مال کی زکوٰة ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے، جبکہ وہ آپ کے پاس موجودنہ ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا ،اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیزنہیں چھپائے گا، اور نماز قائم کرے گا ،اور زکوٰۃ ادا کرے گا ،پھرحق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے ،تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے ،اور مارا جا تا ہے ،تو وہ شہیدشمار ہوگا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس سب کے رجال ’’صحیح‘‘کے رجال ہیں۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ← أُمِّ سَلَمَةَ
Hadith 4443
