مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْمَشْيِ فِي الطَّاعَةِ] · حديث 559
559 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ فَقُمْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَقُلْنَا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ حِينَ يَلْبَسُ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ مَشَى حَافِيًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَمْ يَسْأَلْهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا افْتَرَضَ عَلَيْهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْحَذَّاءُ. قُلْتُ: مُحَمَّدٌ هَذَا وَشَيْخُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک جنازہ گزرا، وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے نماز ادا کی ، انہوں نے جوتا اتار لیا ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! آپ نے جوتا کیوں اتار دیا ؟ جبکہ دوسرے لوگوں نے جوتے پہنے ہوئے ہیں ، تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میںنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت ( یعنی فرمانبرداری کے کام میں ) جوتا پہنے بغیر پیدل چلتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے ان چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے گا ، جو اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) نے اس شخص پر فرض کی ہیں " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : محمد بن عبداللہ بن معاویہ حذاء اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے محمد نامی اس راوی اور اس کے استاد عبداللہ بن ابراہیم ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › The door of the walking in obedience] · Hadith 559
