مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي بِقَاعِ الْمَسْجِدِ] · حديث 1984
1984 - عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: حَدَّثْتُ نَفْسِي أَنْ أُصَلِّي خَلْفَ كُلِّ سَارِيَةٍ مِنْ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ أَنَا بِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ لِأُخْبِرَهُ بِأَمْرِي فَسَبَقَنِي رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي أَصْنَعُ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَوْ يَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - عِنْدَ أَدْنَى سَارِيَةٍ مَا جَاوَزَهَا حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.
مرہ ہمدانی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ طے کیا کہ میں مسجد کوفہ کے ہر ایک ستون کے پاس دو رکعت ادا کروں گا میں اس طرح نماز ادا کر رہا تھا اسی دوران حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لے آئے میں ان کے پاس آیا تاکہ انہیں اپنے معاملے کے بارے میں بتاؤں تو ایک شخص مجھ سے پہلے ان کے پاس پہنچ گیا اس نے انہیں میرے طرز عمل کے بارے میں بتایا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ شخص یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ قریبی ستون کے پاس بھی ہے، تو وہ نماز مکمل کرنے سے پہلے اس ستون سے آگے نہ جاتا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
بِالَّذِي أَصْنَعُ ← بِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ لِأُخْبِرَهُ بِأَمْرِي فَسَبَقَنِي رَجُلٌ ← أُصَلِّي إذْ ← نَفْسِي أَنْ أُصَلِّي خَلْفَ كُلِّ سَارِيَةٍ مِنْ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَبَيْنَا ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ،
Hadith 1984
