مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّ شَيْئًا] · حديث 6950
6950 - عَنِ الْحَكَمِ وَطَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَا: جَاءَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا، وَلَمْ يُسَمِّ شَيْئًا قَالَ: يُعْتِقُ نَسَمَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ طَلْحَةَ وَالْحَكَمَ لَمْ يَسْمَعَا مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حضرت طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں: حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا ، جو کوئی نذر مانتا ہے لیکن کوئی چیز متعین نہیں کرتا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ غلام آزاد کرے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیرمیں نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ طلحہ اور حکم نے حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔
رجل نذر نذرا ولم يسم شيئا ← جاء معقل بن سنان إلى عبد الله فسأله ← الْحَكَمِ وَطَلْحَةَ بْنَ مُصَرِّفٍ
Hadith 6950
