مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ رِوَايَةِ الْحَدِيثِ بِالْمَعْنَى] · حديث 693
693 - عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا لَهُ: بِآبَائِنَا [أَنْتَ] وَأُمَّهَاتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ،، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ الْحَدِيثَ، فَلَا نَقْدِرُ أَنْ نُؤَدِّيَهُ كَمَا سَمِعْنَا. قَالَ: " إِذَا لَمْ تُحِلُّوا حَرَامًا، وَلَمْ تُحَرِّمُوا حَلَالًا، وَأَصَبْتُمُ الْمَعْنَى - فَلَا بَأْسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ يَعْقُوبَ وَلَا أَبَاهُ.
یعقوب بن عبداللہ ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی : ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں ، یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کوئی حدیث سنتے ہیں لیکن اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ اس کو بعینہ اسی طرح بیان کریں ، جس طرح ہم نے سنی تھی ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ) روایت کا مفہوم نقل کرتے ہوئے ، اگر تم لوگ کسی حرام چیز کو حلال نہیں کر دیتے اور حلال چیز کو حرام قرار نہیں کر دیتے ، اور مفہوم درست بیان کرتے ہو ،تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔یہ روایت اما م طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا ، جس نے یعقوب کا یا اس کے والد کا ذکر کیا ہو۔
«أَتَيْنَا النَّبِيَّ فَقُلْنَا لَهُ: بِآبَائِنَا [أَنْتَ] وَأُمَّهَاتِنَا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ
Hadith 693
