مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَحْكَامِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِي الْأَحْكَامِ] · حديث 7059
7059 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ جُرْحُهَا جُبَارٌ» ". وَالْعَجْمَاءُ: الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ، وَغَيْرُهَا. وَالْجُبَارُ: هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ. وَقَضَى: " «فِي الرِّكَازِ الْخُمْسَ» ". وَقَضَى: " «أَنَّ تَمْرَ النَّخِيلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» ". وَقَضَى: " «أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يُشْتَرَطَ الْمُبْتَاعُ» ". وَقَضَى: " «أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ» ". وَقَضَى: «بِالشُّفْعَةِ [بَيْنَ الشُّرَكَاءِ] فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ». وَقَضَى «لِحَمْلِ ابْنِ مَالِكٍ [الْهُذَلِيِّ] بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى». وَقَضَى «فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا، وَكَانَ لَهُ مِنِ امْرَأَتَيْهِ كِلَيْهِمَا وَلَدٌ. قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا صَاحَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بُطْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ ". مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ لَهُ». قَالَ: وَقَضَى «فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ فِي الطَّرِيقِ، ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا [الْبُنْيَانَ] فِيهَا فَقَضَى: " أَنْ يُتْرُكَ لِلطَّرِيقِ مِنْهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ» ". قَالَ: وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى: الْمَقْيَا. وَقَضَى «فِي النَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى: " أَنَّ فِي كُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَيِّزٌ لَهَا» ". وَقَضَى «فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ: " أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ، فَكَذَلِكَ تَنْقَضِي حَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ» ". وَقَضَى: " «أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» ". وَقَضَى: " «لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بِالسُّدْسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ» ". وَقَضَى: " «أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ» ". وَقَضَى: " «أَنْ لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ» ". وَقَضَى: " «أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ» ". «وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ: " لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ» ". «وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: " أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَأِ» ". وَقَضَى «فِي الدِّيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ: " ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً» ". وَقَضَى «فِي الدِّيَةِ الصُّغْرَى: " ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ» ". ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِبِلَ الدِّيَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابَ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. قَالَ: فَزَادَ ثُلُثَ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ. قَالَ: فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا. قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ، وَلَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ، وَلَا الذَّهَبَ. وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ قِيمَةُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ. وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلے دیے ہیں، ان میں یہ بات بھی شامل ہے ’’کان میں گر کر مرنا رائیگاں جائے گا، کنویں میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا، جانور سے گر کے مرنا رائیگاں جائے گا‘‘۔لفظ ’’عجماء‘‘ کا مطلب جانور ہے، خواہ اس کا تعلق پالتو جانوروں سے ہو، یا اس کے علاوہ سے ہو۔ ’’جبار‘‘ کا مطلب وہ چیز ہے، جو رائیگاں جائے، جس کا جرمانہ، نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے ،کہ رکاز ( دفینہ ) میں خمس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ آپ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے: کہ کھجور کے درخت کی کھجوریں اُس شخص کو ملیں گی، جس نے ان کی پیوندکاری کی ہوگی البتہ اگر خریدار نے شرط رکھی ہو، تو مختلف ہوگا۔آپ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے: کہ مملوک (کنیز یاغلام ) کا مال فروخت کرنے والے کو ملے گا، البتہ اگر خریدار نے شرط رکھی ہو، تو حکم مختلف ہے۔ آپ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے : بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔ آپ نے شفعہ کے بارے میں فیصلہ دیا ہے: کہ وہ زمین یا گھر کے بارے میں شراکت داروں کے درمیان ہوگا۔ آپ نے حمل بن مالک ہزلی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: کہ وہ اپنی بیوی کی وراثت میں حصہ دار بنیں گے، جس بیوی کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔قتل ہونے والے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ دیا تھا: کہ جرمانے کے طور پر ایک غلام یا کنیز کو ادا کیا جائے گا، اور اس عورت کا وارث، اس کا شوہر اور اس کے بیٹے بنیں گے، اُن صاحب کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی عورت کے والد نے، جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا، اُس نے عرض کی: یارسول اللہ! میں ایسے بچے کا جرمانہ کیسے ادا کروں؟ جس نے کچھ پیا نہیں، کچھ کھایا نہیں، وہ چیخا نہیں، ایسا خون تو رائیگاں جاتا ہے، تو نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں میں سے ایک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اُس کی مسجع وقفع گفتگو کی وجہ سے کی تھی۔ وہ فرماتے ہیں: گھر سے باہر کھلی جگہ جو راستے میں ہو، اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا ہے: کہ وہ اس کے مالکان وہاں کوئی عمارت تعمیر کرنا چاہیں، تو آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ اس میں سے سات زراع کا راستہ چھوڑیں گے، راوی کہتے ہیں: اس راستے کو ’’مقيا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جہاں کھجور کا ایک، یا دو درخت ہوں، یا تین ہوں اور پھر حقوق کے بارے میں اختلاف ہوجائے، تو اس کے بارے میں بھی نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فیصلہ دیا ہے: آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے: کہ ہرکھجور کے درخت کی حد وہاں تک شمار ہوگی، جہاں تک اُس کی شاخ جاتی ہے۔ پانی کی ندی سے کھجور کے درخت کو سیراب کرنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اوپر کی طرف والے لوگ اپنے حصے کو سیراب کرلیں گے، وہ نیچے والوں سے پہلے ایسا کریں گے، یہاں تک کہ پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے، پھروہ پانی کو نیچے والوں کے لئے چھوڑ دیں گے، جو اس کے بعد آتا ہوگا، اسی طرح یا تو باغات ختم ہوجائیں گے، یا پانی ختم ہوجائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کوئی چیزنہیں دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ دو دادیاں، وارثت میں چھٹے حصے کی حقدار بنیں گی، اور وہ ان دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: کہ جو شخص کسی مشترکہ غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسے آزاد کرے، اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ نہ تو ضرر پہنچایا جائے گا نہ ضرر حاصل کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کسی کو (غصب کے طور پر کسی کی جگہ پر) پودا لگانے کا حق نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے درمیان کھجوروں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ کنویں کے پانی سے منع نہیں کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویرانے میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں فیصلہ دیا تھا: کہ اضافی پانی کو روکا نہیں جائے گا کہ اس کے زریعے اضافی گھاس پھوس اُگنی بند ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: کہ تیس بنت لبون، تیس حقہ اور چالیس خلفہ ہوں گے۔ آپ صلى الله علیہ وسلم نے چھوٹی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: کہ میں بنت لبون، تیس حقہ، تیس نت مخاض اور بیس بنو مخاض مذکر ہوں گے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم کے وصال کے بعد اونٹوں کی قیمت زیادہ ہوگئی اور درہموں کی قیمت کم ہوگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کے اونٹوں کو چھ ہزار درہم کے برابر قرار دیا، اس حساب سے کہ ایک اوقیہ ایک اونٹ کی قیمت بنتی ہے پھر اونٹوں کی قیمت اور زیادہ ہوگئی اور چاندی کی قیمت کم ہوگئی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں دو ہزار کا اضافہ کردیا، جو ہر اونٹ کے لئے دواوقیہ بنتے ہیں، پھر اونٹوں کی قیمت زیادہ ہوگئی، اور درہم کی کم ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل کر کےباره ہزار کر دیا، جو ہر اونٹ کے لئے تین اوقیہ بنتے ہیں، انہوں نے فرمایا:حرمت والے مہینے میں دیت کا ایک تہائی حصہ اضافی ہوگا، اور حرمت والے شہر میں ایک تہائی حصہ مزید ہوگا، راوی کہتے ہیں: تو حرمین کی دیت میں ہزار (درہم) مکمل ہوجاتی ہے۔راوی بیان کرتے ہیں: یہ بات کہی جاتی ہے کہ دیہات کے رہنے والوں سے جانور وصول کیے جائیں گے، انہیں سونے یا چاندی کی ادائیگی کا پا بندنہیں کیا جائے گا، ہرقوم سے وہ چیز وصول کی جائے گی، جو ان کے اموال میں سے عدل کے مطابق قیمت کے حساب سے بنتی ہو۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔ یہ روایت عبد الله بن احمد نے نقل کی ہے، اور اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Rulings] › A chapter that includes all rulings. · Hadith 7059
