مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي الْبِرِّ وَالْإِثْمِ] · حديث 815
815 - عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ: " جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟ " فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ، فَقَالَ: " الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، وَقَالَ فِي الْبَزَّارِ: الْأَسَدِيُّ عَنْ وَابِصَةَ، وَعَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہو؟ تو حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں دریافت کرنے کےلیے نہیں آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"نیکی وہ ہے جس کے لیے تمہیں شرح صدر حاصل ہو خواہ لوگ اس کے بارے میں تمہیں جو بھی حکم بیان کرتے ہوں "۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو عبداللہ سلمی ہے امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اسدی نے حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس سے معاویہ بن صالح نے روایت نقل کی ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ
Hadith 815
