مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ أُسْطُوَانَةِ الْقُرْعَةِ] · حديث 5891
5891 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ لَبُقْعَةً قَبْلَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ لَوْ يَعْلُمُ النَّاسُ مَا صَلَّوْا فِيهَا إِلَّا أَنْ يَطِيرَ لَهُمْ [فِيهَا] قُرْعَةٌ» "، وَعِنْدَهَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَبْنَاءِ الصَّحَابَةِ وَأَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيْنَ هِيَ؟ فَاسْتَعْجَمَتْ عَلَيْهِمْ فَمَكَثُوا عِنْدَهَا، ثُمَّ خَرَجُوا وَثَبَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالُوا: إِنَّهَا سَتُخْبِرُهُ بِذَلِكَ الْمَكَانِ فَارْمُقُوهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا حَيْثُ يُصَلِّي، فَخَرَجَ بَعْدَ سَاعَةٍ فَصَلَّى عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي صَلَّى إِلَيْهَا ابْنُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقِيلَ لَهَا أُسْطُوَانَةُ الْقُرْعَةِ، قَالَ عَتِيقٌ: وَهِيَ الْأُسْطُوَانَةُ الَّتِي وَاسِطَةٌ بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ عَنْ يَمِينِهَا إِلَى الْمِنْبَرِ أُسْطُوَانَتَيْنِ وَبَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمِنْبَرِ أُسْطُوَانَتَيْنِ وَبَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْبَةِ أُسْطُوَانَتَيْنِ وَهِيَ وَاسِطَةٌ بَيْنَ ذَلِكَ وَهِيَ تُسَمَّى أُسْطُوَانَةَ الْقُرْعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ” مسجد میں اس ستون سے پہلے ایک جگہ ایسی تھی کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ وہاں نماز ادا کرنے کا کیا اجر ہے ‘ تو وہ اس کے بارے میں قرعہ اندازی کریں گے‘‘۔ اس وقت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس صحابہ کرام کے صاحبزادوں کی ایک جماعت موجود تھی اور مہاجرین کے صاحبزادوں کی ایک جماعت موجود تھی ان لوگوں نے عرض کی :اے ام المومنین وہ جگہ کہاں ہے؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب نہیں دیاوہ لوگ سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے رہے پھر وہ وہاں سے نکلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وہیں رہے ان لوگوں نے کہا: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اس جگہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بتائیں گی تو تم لوگ ان کا جائزہ لیتے رہنا کہ وہ مسجد میں کس جگہ نماز ادا کرتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے اس ستون کے پاس نماز ادا کی جس کے پاس ان کے صاحبزادے عامر بن عبداللہ بن زبیر نے نماز ادا کی تھی اور اس ستون کو ’’ قرعہ‘‘ کا ستون کہا جاتا ہے عتیق نامی راوی کہتے ہیں: یہ وہ ستون ہے ‘ جو قبر اورمنبر کے درمیان واسطہ ہے اور اس کے دائیں طرف منبر والی جانب دو ستون ہیں اور اس کے اور منبر کے درمیان دو ستون ہیں اور اس کے اور صحن کے درمیان دو ستون ہیں تو یہ ان کے درمیان بھی واسطہ ہے اس کو قرعہ کا ستون کہا جاتا ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔
عَائِشَةَ
Hadith 5891
