مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ اتِّبَاعِهِ فِي كُلِّ شَيْءٍ] · حديث 812
812 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْإِمَامُ فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ، فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَأْزِمَيْنِ فَأَنَاخَ، فَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ: إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ، فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں عرفات میں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا ، یہاں تک کہ امام آیا، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اقتداء میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر وہ میں اور میرے ساتھی ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ امام روانہ ہوا ، تو ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہو ئے یہاں تک کہ"مازمین "سے پہلے وہ ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنی سواری کو تھامے ہوئے تھا ، اس نے بتایا : ان کا نماز ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مقام پر پہنچے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں قضائے حاجت کی تھی ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہاں قضائے حاجت کریں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ
Hadith 812
