مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ صَلَاةِ الشُّكْرِ] · حديث 3681
3681 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كَانَ لَا يُفَارِقُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَخَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَسْوَاقِ فَصَلَّى فَأَطَالَ السُّجُودَ فَقُلْتُ: قَبَضَ اللَّهُ رَوْحَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَرَاهُ أَبَدًا فَحَزِنْتُ وَبَكَيْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَدَعَانِي فَقَالَ: " مَا الَّذِي بِكَ؟ أَوْ مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلْتَ السُّجُودَ فَقُلْتُ: قَدْ قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ لَا أَرَاهُ أَبَدًا فَحَزِنْتُ وَبَكَيْتُ قَالَ: " سَجَدْتُ هَذِهِ السَّجْدَةَ شُكْرًا لِرَبِّي فِيمَا أَبْلَانِي مِنْ أُمَّتِي، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْهُمْ صَلَاةً كَتَبْتُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَهُ حَدِيثٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ يَأْتِي.
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ یا چارآ دمی کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سے جدانہیں ہوتے تھے ایک رات آپ باہر تشریف لائےمیں آپ کے پیچھے چل پڑا آپ ایک باغ میں آئے وہاں آپ نے نماز ادا کی اور طویل سجدہ کیا میں نے سوچا:شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح کوقبض کر لیا ہے اب میں آپ کوکبھی نہیں دیکھ پاؤں گا یہ سوچ کر میں غمگین ہو گیا اور رونے لگا آپ نے اپنے سر کواٹھا یا اور مجھے بلا یا اور فرمایا:تمہیں کیا ہوا ہے ( راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) وہ چیز کیا ہے ‘ جو میں تم میں دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ نے سجدے کواتناطول دیا کہ میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح کوقبض کر لیا ہے‘ اوراب میں انہیں کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا اس بات پر میں غمگین ہوا اور رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں نے یہ سجد ہ اپنے پروردگارکاشکر کر نے کے لئے کیا تھا جوشکر اس چیز کی وجہ سے تھا جو اس نے میری امت کو عطا کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: پروردگار نے فرمایا: ان لوگوں میں سے جوشخص تم پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لی جائیں گی‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسٰی بن عبیدہ ہے‘ اور وہ ضعیف ہے اس کے حوالے سے ایک حدیث سجد ہ شکر سے متعلق باب میں آگے آئےگی۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
Hadith 3681
