مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ] · حديث 148
148 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، حَثَا بِكَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، " وَقَلِيلٌ مَا هُمْ "، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ "، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: "؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ: " «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»، وَلَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: " «الْأَكْثَرُونَ هُمُ الْأَقَلُّونَ» وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی شخص کے کھجوروں کے باغ میں سے گزر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمایا: اے ابو ہریرہ ! ( مال و دولت کی ) کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے، جو اس طرح اور اس طرح اور سب طرح کرے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، آپ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر دائیں اور بائیں طرف اور سامنے کی طرف تین مرتبہ (خرچ کرنے کا اشارہ کیا) اور فرمایا: لیکن ایسے لوگ کم ہیں ، پھر کچھ دیر چلتے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ ! کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ، ایک خزانہ کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ میں نے عرض کی: جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ( وہ یہ پڑھنا ہے: ) "لا حول ولا قوۃ الا باللہ ولا مجامن اللہ الاالیہ " اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ، اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، صرف اسی کی ذات جائے پناہ ہے"۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو، بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں ، اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، جب وہ ایسا کر لیں گے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہو گی کہ وہ انہیں عذاب نہ دے، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس میں سے صرف لا حول ولا قوۃ الا با للہ کے الفاظ نقل کئے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے: " کثرت والے لوگ ، قلت والے ہوں گے" ۔ اس روایت کے رجال ، ثقہ اور ثبت ہیں۔
يَسَارِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً ← یَّمِیْنِہٖ ← هكذا، وهكذا، وهكذا -ثلاثَ مَرَّاتٍ، حثا بكفَّيْهِ ← "يا أبا هريرة! هلَكَ المكْثِرونَ إلا مَنْ ← كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Hadith 148
