مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ] ‹ [بَابُ النُّهْبَةِ فِي الْعُرْسِ] · حديث 6176
6176 - عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْأُلْفَةِ، وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ، وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ، بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِهِ ". فَجِيءَ بِدُفٍّ فَضُرِبَ بِهِ. فَأَقْبَلَتِ الْأَطْبَاقُ عَلَيْهَا فَاكِهَةٌ، وَسُكَّرٌ، فَنُثِرَ عَلَيْهِ، وَكَفَّ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا لَكَمَ لَا تَنْتَهِبُونَ؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ لَمْ تَنْهَ عَنِ النُّهْبَةِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ، فَأَمَّا الْعُرْسَاتُ فَلَا ". فَحَادَثَهُمْ وَحَادَثُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ لُمَازَةَ، وَلَيْسَ ابْنَ زَبَّارٍ؛ هَذَا مُتَأَخِّرٌ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْ هَذَا بِإِسْنَادٍ فِيهِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ وَضَّاعٌ، وَهُوَ غَيْرُ هَذَا الْإِسْنَادِ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب کی شادی میں شریک ہوئےتو آپ نے دعادی: بھلائی برکت الفت ہوخوش نصیبی آئے رزق میں گنجائش نصیب ہواللہ تعالیٰ تم لوگوں کو برکت نصیب کرے! ( پھر آپ نے فرمایا: )تم لوگ اس کے سرہانے دف بجاؤ پھر ایک دف لائی گئی اور اس کے سرہانے بجائی گئی اسی دوران تھال آئے جس میں پھل اور مٹھائی موجود تھے وہ آپ کے سامنے رکھے گئے لوگوں نے اپنے ہاتھ ان کی طرف بڑھائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ تم لوٹتے کیوں نہیں ہو؟ لوگوں نے عرض کی : کیا آپ نے لوٹنے سے منع نہیں کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں لشکروں میں لوٹنے سے منع فرمایا ہے جہاں تک شادی کا تعلق ہے‘ تو وہ ( ممنوع )نہیں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ اور لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھینا جھپٹی شروع کر دی۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے بنو ہاشم کے غلام حازم نے اسے لمازہ سے نقل کیا ہے وہ ابن زبار نہیں ہے یہ بعد کے زمانے کا ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئےنہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس سے زیادہ مکمل طور پر ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جس میں ایک راوی بشربن ابراہیم ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والاشخص ہے اور وہ سنداس سند کے علاوہ ہے۔
شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ
Hadith 6176
