مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ أَوْتَرَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ] · حديث 3485
3485 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ (إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرُ). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے جب ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشادفرمایا: اگر میں نے سونے سے پہلے وتر ادا کر لیے ہوں اور پھر میں رات کے وقت نماز ادا کرنے کا ارادہ کروں تو میں نے جو وتر ادا کیے تھے ایک رکعت کے ذریعےا نہیں جفت کر لیتا ہوں، پھر دو دو کر کے نماز ادا کرتا رہتا ہوں جب اپنی نمازمکمل کر لیتا ہوں تو ایک رکعت وتر ادا کر لیتا ہوں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ رات کی نماز کا آخری حصہ وتر کو بنایا جائے۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال"صحیح "کے رجال ہیں۔
إِمَّا ← الْوَتْرِ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ
Hadith 3485
