مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابٌ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَمَنْ أَحَقُّ بِالصِّلَةِ] · حديث 4533
4433 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ: فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَزَادَ: «وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَاسْتَعِفَّ عَنِ السُّؤَالِ وَعَنِ الْمَسْأَلَةِ مَا اسْتَطَعْتَ، فَإِنْ أُعْطِيتَ شَيْئًا - أَوْ قَالَ: خَيْرًا - فَلْيُرَ عَلَيْكَ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَارْضَخْ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْعَفَافِ». وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اوپر والا ہے، دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد والا ہے، اور مانگنے کے والے ہاتھ نیچے والا ہے‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ’’ مانگنے والے کا ہاتھ قیامت کے دن تک نیچے والا رہے گا، تم مانگنے سے اور سوال کرنے سے بچو! جہاں تک تم سے ہو سکے اگر تمہیں کچھ دیا جائے (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں :) اگر بھلائی دی جائے، تو وہ تم پرنظر آنی چاہیے اور تم اپنے زیر کفالت پرخرچ کا آغاز کرو، اور تم اضافی چیز کو عطیہ کر دو، اور مانگنے سے بچنے پر ملامت نہیں کی جاتی ہے‘‘۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Hadith 4533
