مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابُ الْمُكَبِّرِ وَالْمُلَبِّي] · حديث 5573
5573 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «نَزَّلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ، فَلَمْ يَعِبْ مُكَبِّرُنَا عَلَى مُهِلِّنَا، وَلَا مُهِلُّنَا عَلَى مُكَبِّرِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» فِي بَابِ التَّلْبِيَةِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا ہم میں سے کچھ لوگ تکبیر پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو تکبیر پڑھنے والا تلبیہ پڑھنے والے پر اور تلبیہ پڑھنے والا تکبیر پڑھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے یہ روایت تلبیہ پڑھنے سے متعلق باب میں گزری ہے۔
أَنَسٍ،
Hadith 5573
