مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَتْرِ] · حديث 3435
3435 - عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ: «أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الصُّبْحِ: الْوَتْرَ الْوَتْرَ» ". أَلَا وَإِنَّهُ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَكُنْتُ أَنَا وَأَبُو ذَرٍّ قَاعِدَيْنِ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عَلَى الْبَابِ الَّذِي يَلِي بَابَ عَمْرٍو فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ: الْوَتْرَ الْوَتْرَ» "؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ إِسْنَادَانِ عِنْدَ أَحْمَدَ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَلِيَّ بْنَ إِسْحَاقَ السُّلَمِيَّ شَيْخَ أَحْمَدَ وَهُوَ ثِقَةٌ.
ابو تمیم جیشانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا:بے شک اللہ تعالی نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے توتم اسے عشاء سے لے کر صبح کی نماز کے درمیان میں ادا کر ووہ وتر ہے، وتر ہے۔ خبردار !وہ راوی حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔ابو تیمم کہتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر ہم چلتے ہوئے حضرت ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ہم نے انہیں اس دروازے کے پاس پایا جوحضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب تھا حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ ارشاد فر ماتے ہوئےبے شک اللہ تعالی نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے توتم اسے عشاء سے لے کر صبح کی نماز کے درمیان میں ادا کرؤوہ وتر ہے ،وتر ہے۔تو حضرت ابو بصرہ نے جواب دیا: جی ہاں! حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں!یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد نے اس کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند کے رجال"صحیح" کے رجال ہیں البتہ امام احمد کے استادعلی بن اسحاق علی کا معاملہ مختلف ہے ویسے وہ "ثقہ" ہیں۔
رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ
Hadith 3435
