مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَطَاهِرِ] · حديث 1071
1071 - «عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْوُضُوءُ مِنْ جَرٍّ جَدِيدٍ مُخَمَّرٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مِنَ الْمَطَاهِرِ؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ مِنَ الْمَطَاهِرِ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ ". قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ إِلَى الْمَطَاهِرِ، فَيُؤْتَى بِالْمَاءِ فَيَشْرَبُهُ، يَرْجُو بَرَكَةَ أَيْدِي الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ثِقَةٌ، يُنْسَبُ إِلَى الْإِرْجَاءِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ڈھانپے ہوئے نئے مٹکے کے ذریعے وضو کرنا آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ' یا طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! بلکہ طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے (وضو کرنا' میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے) بے شک اللہ تعالیٰ کا دین درست اور آسان ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طہارت کابرتن منگوایا کرتے تھے'اس میں پانی لایاجاتاتھا' تو آپ اس پانی کوپیتے تھے آپ مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید رکھتے (ہوئے ایساکرتے) تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے 'اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ' عبدالعزیز بن ابو روادنامی راوی ثقہ ہے اس کی نسبت "ارجاء" کی طرف کی گئی ہے۔
قُلْتُ ← ابْنِ عُمَرَ
Hadith 1071
