مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ باب · حديث 5492
5492 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَوْلَا مَا طَبَعَ الرُّكْنَ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَرْجَاسِهَا، وَأَيْدِي الظَّلَمَةِ وَالْأَثَمَةِ ; لَاسْتَشْفَى بِهِ مَنْ كَانَ بِهِ عَاهَةٌ وَلَأُلْفِيَ الْيَوْمَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَهُ اللَّهُ، وَإِنَّمَا غَيَّرَهُ بِالسَّوَادِ ; لِئَلَّا يَنْظُرَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى زِينَةِ الْجَنَّةِ وَلَيَصِيرَنَّ إِلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَيَاقُوتَةٌ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، وَضَعَهُ اللَّهُ حِينَ أَنْزَلَ آدَمَ فِي مَوْضِعِ الْكَعْبَةِ (قَبْلَ أَنْ تَكُونَ الْكَعْبَةُ)، وَالْأَرْضُ يَوْمَئِذٍ طَاهِرَةٌ، وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَعَاصِي، وَلَيْسَ لَهَا أَهْلٌ يُنَجِّسُونَهَا، فَوُضِعَ لَهُ صَفٌّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْرُسُونَهُ مِنْ سُكَّانِ الْأَرْضِ وَسُكَّانُهَا يَوْمَئِذٍ الْجِنُّ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيْهِ ; لِأَنَّهُ شَيْءٌ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ نَظَرَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْجَنَّةِ دَخَلَهَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِلَّا مَنْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَالْمَلَائِكَةُ يَذُودُونَهُمْ عَنْهُ، وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَقْذِفُونَ بِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، وَلِذَلِكَ سُمِّيَ الْحَرَمَ ; لِأَنَّهُمْ يَحُلُّونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَا لَهُ ذِكْرٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ زمانہ جاہلیت کی نجاستوں اور گندگیوں نے اور ظالموں اور گناہگاروں کے ہاتھوں نے اگر حجر اسود کو نہ چھوا ہوتا تو جس شخص کو کوئی تکلیف ہوتی وہ اس کے ذریعے شفاء حاصل کر لیتا اور آج میں اس کو اسی حالت میں پاتا کہ جیسے یہ اس دن تھا جب اللہ تعالی ٰنے اسے پیدا کیا تھا سیاہی نے اسے متغیر کر دیا ہے تاکہ اہل جہنم جنت کی زینت کو نہ دیکھ سکیں اور اس کی طرف نہ جائیں یہ جنت کا یاقوت تھا اسے اللہ تعالی ٰنے خانہ کعبہ کی جگہ پر اس وقت رکھا جب اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو (زمین کی طرف ) نازل کیا یہ خانہ کعبہ کی تعمیر سے پہلے کی بات ہے اس وقت زمین پاک صاف ہوتی تھی اس وقت گناہ کا ارتکاب نہیں کیا جاتا تھا اور اہل زمین نہیں تھے جو اس کو ناپاک کرتے حرم کے اطراف میں فرشتوں کی ایک صف نے اسے رکھا تھا وہ زمین کے رہائشیوں سے اس کی حفاظت کیا کرتے تھے ان دنوں زمین کے رہائشی صرف جنات ہوا کرتے تھے ان کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کی طرف دیکھ سکیں کیونکہ یہ جنت کی چیزتھی اور جو شخص جنت کی کوئی چیز دیکھے گاوہ جنت میں داخل ہو گا تو انہیں اس بات کا حق نہیں تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھیں البتہ اس شخص کو حق تھا جس کے لئے جنت واجب ہو چکی ہو فرشتے جنات کو اس کے پاس آنے سے روکا کرتے تھے اور وہ حرم کے تمام اطراف میں کھڑے رہتے تھے ہر طرف سے آنے والے کو وہ پرے کر دیتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام حرم رکھا گیا ہے کیونکہ وہ ان لوگوں اور حجر اسود کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتے تھے‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا کوئی تذکرہ ہوا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › Chapter · Hadith 5492
