مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ صَلَاةِ الْمُتَيَمِّمِ بِالْمُتَوَضِّئِ] · حديث 2360
2360 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَهُوَ أَمِيرُ الْجَيْشِ، فَتَرَكَ الْغُسْلَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ قَالَ: إِنِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ مِنَ الْبَرْدِ فَصَلَّى بِمَنْ مَعَهُ جُنُبًا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَّفَهُ مَا فَعَلَ فَأَنْبَأَهُ بِعُذْرِهِ، فَأَقَرَّهُ وَسَكَتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي التَّيَمُّمِ لِأَجْلِ الْبَرْدِ فِي قِصَّةِ عَمْرٍو أَيْضًا.
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنابت لاحق ہو گئی وہ لشکر کے امیر تھے انہوں نے غسل ترک کر دیا یہ سوچ کر کے اگر میں نے غسل کیا تو ٹھنڈک کی وجہ سے میں مر جاؤں گا انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی جب ہم نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے طرز عمل سے آپ کو آگاہ کیا اور اپنے عذر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برقرار رکھا اور آپ خاموش رہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابو بکر بن عبدالرحمن انصاری ہے، جس نے اسے حضرت ابو امامہ بن سہیل بن حنیف نے معجم کبیر سے روایت کیا ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال "ثقہ" ہیں۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے، جس میں سردی کی وجہ سے تیمم کرنے کا ذکر ہے، اور اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بھی درج ہوا ہے۔
أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، ← فِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ← سَكَتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ،
Hadith 2360
