مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الذِّكْرِ وَالسُّجُودِ] · حديث 1926
1926 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ: " أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: " فَسَلْ عَنْ ذَلِكَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ: فَبَكَى جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ وَلَنَا أَنْ نَسْأَلَهُ؟ هُوَ الَّذِي يُخْبِرُنَا بِمَا يَشَاءُ، فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: خَيْرُ الْبِقَاعِ بُيُوتُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ قَالَ: " فَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ " فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: شَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے دریافت کیا: زمین کا کون سا حصہ زیادہ بہتر ہے انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کرنا راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت جبرائیل علیہ السلام رو پڑے اور بولے اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہمیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ ہم اس سے پوچھیں وہ جو چاہتا ہے ہمیں اس کے بارے میں بتا دیتا ہے پھر وہ آسمان کی طرف چلے گئے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بتایا : زمین کا سب سے بہتر حصہ زمین میں موجود اللہ کے گھر ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : زمین کا کون سا حصہ سب سے برا ہے وہ دوبارہ آسمان کی طرف گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا : زمین کا سب سے برا حصہ بازار ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی ننے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ " ضعیف" ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Hadith 1926
