مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُقَالُ فِي الْمَيِّتِ مِمَّا فِيهِ] · حديث 4031
4031 - عَنْ أُمِّ عَبَّاسٍ قَالَتْ: «جَعَلَتْ أُمُّ سَعْدٍ تَقُولُ: وَيْلَ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا صَرَامَةً وَجِدًّا " فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا، لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا، وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ حَازِمًا فِي أَمْرِ اللَّهِ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیّدہ ام عباس بیان کرتی ہیں: سیّدہ اُمّ سعد نے یہ کہنا شروع کیا: ام سعد کے لئے بربادی ہے ‘ سعد بہادر اور مضبوط تھا ‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس سے زیادہ نہ کہنا ‘ تم اس سے زیادہ نہ کہنا ‘ اللہ کی قسم! میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اللہ کے معاملے میں احتیاط کر نے والا تھا اور اللہ کے معاملے میں قوی تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ‘اور وہ ضعیف ہے۔
«جَعَلَتْ أُمُّ سَعْدٍ تَقُولُ: وَيْلَ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا صَرَامَةً وَجِدًّا ← أُمِّ عَبَّاسٍ
Hadith 4031
