مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ] · حديث 5410
5410 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: «كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَكَّةَ (فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَجَعَلْنَاهُ عَرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانٌ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ، وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعِمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ يَقُولُ هَذَا؟ قَالُوا: عَلِيٌّ. فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَجَاءَهُ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ، وَهُوَ يَجُبُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ، وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ "؟. قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (حِينَ) أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ "؟. قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ فِي الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ. قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ، فَدَخَلَ (رَحَاهُ) وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ قِصَّةَ قَائِمَةِ الْحِمَارِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ عِدَّةِ مَنْ شَهِدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں: میرے والد حضرت حارث ؓ حضرت عثمان ؓکے زمانے میں مکہ کے نگران تھے حضرت عثمان ؓ مکہ آئے عبداللہ کہتے ہیں:میں نے قدید کےمقام پرپڑاؤکےدوران حضرت عثمانؓ کا استقبال کیاوہاں موجودپانی والے لوگوں نے ایک کبوتر کا شکار کیا ہم نے اسے پانی میں اورنمک میں پکایا اور اسے ثرید کی طرح بناد یا ہم نے وہ حضرت عثمان ؓ اور اس کے ساتھیوں کو پیش کیاوہ اس سے رُک گئے حضرت عثمان ؓ نے کہایہ ایک شکار ہے‘ جسے ہم نے شکارنہیں کیا اور اسے شکار کر نے کا ہم نے حکم بھی نہیں دیا ایسے لوگوں نے اسے شکار کیا ہے‘ جو احرام کے بغیر ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ کھانے کے لئے دیا ہے‘ تو اس میں حرج کی کیابات ہے؟ حضرت عثمان ؓنے فرمایا: کون شخص یہ کہتا ہے؟ ( کہ اس کونہیں کھا نا) لوگوں نے بتا یا حضرت علی ؓ حضرت عثمانؓ نے حضرت علی ؓ کو بلوایا وہ ان کے پاس آئے عبداللہ بن حارث کہتے ہیں:میں گویا اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ حضرت علیؓ جب تشریف لائےتھے تو وہ اپنی ہتھیلیوں سے تنکے جھاڑ رہےتھےحضرت عثمان ؓنے ان سے کہا ایک شکار جو ہم نے نہیں کیا‘اوراس کو شکارکر نے کا ہم نے حکم بھی نہیں دیا ایسے لوگوں نے اسے شکار کیا ہے جواحرام کے بغیر ہیں وہ اگر ہمیں کھانے کے لئے یہ دے دیتے ہیں تو اس میں حرج کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: حضرت علیؓ غصے میں آ گئے انہوں نے فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جو نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت موجو دتھا جب آپ کے پاس ایک زیبرے کے پائے لائےگئے تھے تو نبی اکرمﷺنےارشادفر مایا تھا: ہم احرام کی حالت میں ہیں تم لوگ اسےان کو کھلا دو جواحرام میں نہ ہوں۔راوی بیان کرتے ہیں تو نبی اکرم ﷺکے اصحاب میں سے بارہ افرادنےاس بات کی گواہی دی پھرحضرت علیؓ نے فرمایا: میں اس شخص کواللہ کا واسطہ دے کر در یافت کرتا ہوں جواس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجو دتھا جب آپ کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئےتھےتونبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: ہم لوگ احرام کی حالت میں ہیں تو یہ ان لوگوں کوکھلا ؤ جواحرام کے بغیر ہوں راوی کہتے ہیں: توبارہ کی تعداد سے کم لوگوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عثمان غنیؓ نے اپنا پاؤں موڑا اور کھانے سے اٹھ گئے وہ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے گئے اور وہاں موجود پانی کے پاس رہنے والے لوگوں نے وہ کھانا کھایا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤ د نے اس روایت میں سے زیبرے کے پاۓ والاحصہ نقل کیاہے‘اور اس میں گواہی دینے والوں کی تعدادکا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانندنقل کی ہے ‘اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی تو ثیق کی گئی ہے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ،
Hadith 5410
