مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ باب · حديث 6932
6932 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَائِشَةَ فَجَاءَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا أَوْ مَوْلَاةٌ بِقَدِيدٍ، فَقَالَتْ: كُلِي هَذِهِ يَا سَيِّدَتِي، فَقَدْ أَعْجَبَنِي طِيبُهَا. فَقَالَتْ: أَخِّرِيهَا عَنِّي. فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَخِّرِيهَا عَنِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنْ أَحْنَثْتِيهَا كَانَ عَلَيْكِ إِثْمُهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ،ان کی کنیز ان کے پاس ”قدید ‘‘لے کے آئی، اس نے کہا: اے میری مالکن ! آپ اسے کھائیں کیونکہ مجھے اس کی خوشبو پسند آئی ہے ،سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نےکہا: تم ابھی مجھے اس سے دور رکھو، اس کنیز نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو قسم دی ،سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے کہا ،تم اسے مجھ سے دور رکھو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگرتم اس کی قسم توڑواتی ہو تو پھر اس کا گناہ تم پر ہوگا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔
أَخِّرِيهَا عَنِّي. ← أَخِّرِيهَا عَنِّي. فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهَا، ← كُلِي هَذِهِ يَا سَيِّدَتِي، فَقَدْ أَعْجَبَنِي طِيبُهَا. ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَجَاءَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا أَوْ مَوْلَاةٌ بِقَدِيدٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ،
Hadith 6932
