مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ] ‹ [بَابُ قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ] · حديث 6980
6980 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ: «أَنَّ عَمَّتَهُ حَدَّثَتْهُ: أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا مَشْيٌ إِلَى الْكَعْبَةِ نَذْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَلْ تَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا؟ ". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: " فَامْشِي عَنْ أُمِّكِ ". قَالَتْ: أَوَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ، ثُمَّ قَضَيْتِهِ عَنْهَا هَلْ كَانَ يُقْبَلُ مِنْكِ؟ ". قَالَتْ: نَعَمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اللَّهُ أَحَقُّ بِذَلِكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَمُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ضَعِيفٌ.
محمد بن کریب نے ، اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت سنان بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے:ان کی پھوپھی نے انہیں بتایا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے زمہ رضی اللہ عنہہ کعبہ تک پیدل چل کر جانے کی نذر لازم تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کی استطاعت رکھتی ہو کہ تم ان کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنی والدہ کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ ، اس خاتون نے عرض کی : کیا یہ چیز ان کی جگہ کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اگر تمہاری ماں کے ذمہ کوئی قرض ہوتا، اور تم اس کی طرف سے ادا کر دیتی ، تو کیا وہ تمہاری طرف سے قبول ہوجاتا؟ اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اوریہ محمد بن کر یب نامی راوی ضعیف ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن كريب
Hadith 6980
