مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ] · حديث 1254
1254 - عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا. قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَافِعٍ: " مَالَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟ " قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " بِمَ آذَيْتِهِ يَا سَلْمَى؟ " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَامَ يَضْرِبُنِي. فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضْحَكُ وَيَقُولُ: " يَا أَبَا رَافِعٍ، إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، وَقَدْ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنیز سلمی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ابورافع کی اہلیہ تھیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور آپ کو یہ بات بتائی کہ ابورافع نے اُس کی پٹائی کی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو رافع سے کہا: اے ابو رافع! تمہارا اس عورت کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ ! یہ مجھے اذیت پہنچاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: سلمیٰ تم اسے اذیت کیوں پہنچاتی ہو؟ اس عورت نے جواب دیا: یا رسول اللہ ! میں انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچاتی ہوں ' یہ نماز ادا کرنے کے دوران بے وضو ہو گئے' تو میں نے کہا: اےابو رافع! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے' کہ جب ان میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جائے' تو وہ شخص وضو کر لے ' تو یہ اس بات پر مجھے مارنے لگے' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنسنا شروع کر دیا اور ارشاد فرمایا: اے ابو رافع! یہ تمہیں صرف بھلائی کا حکم دیتی ہے۔ یہ روایت امام احمد ' امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ' امام احمد کے رجال"صحیح" کے رجال ہیں' البتہ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے' اور اس نے یہ کہا ہے: ہشام بن عروہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ' باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ
Hadith 1254
