مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ خِطَابِ الْقَبْرِ] · حديث 4251
4251 - عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ الْقَبْرُ لِلْمَيِّتِ حِينَ يُوضَعُ فِيهِ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا غَرَّكَ بِي؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْفِتْنَةِ وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ؟ مَا غَرَّكَ إِذْ كُنْتَ تَمُرُّ بِي فَدَّادًا؟ فَإِنْ كَانَ مُصْلِحًا أَجَابَ عَنْهُ مُجِيبُ الْقَبْرِ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ الْقَبْرُ: إِنِّي إِذًا أَعُودَ عَلَيْهِ خَضِرًا، أَوْ يَعُودَ جَسَدُهُ نُورًا، وَتَصْعَدَ رُوحُهُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ". فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَائِذٍ: يَا أَبَا الْحَجَّاجِ، وَمَا الْفَدَّادُ؟ قَالَ: الَّذِي يُقَدِّمُ رِجْلًا وَيُؤَخِّرُ أُخْرَى، كَمِشْيَتِكَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْيَانًا. قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَلْبَسُ وَيَتَهَيَّأُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.
حضرت ابوجحاج ثمالی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے، تو قبر میت سے یہ کہتی ہے: اے ابن آدم ! تمہارا ستیاناس ہو کس چیز نے تمہیں میرے حوالے سے غلط فہمی کا شکار رکھا؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے کہ میں آزمائش کا گھر ہوں اور تاریکی کا گھر ہوں تمہیں کس چیز نے غلط فہمی کا شکار کیا جب تم میرے پاس سے گزرا کرتے تھے، اور تمہاری آواز بلند ہوتی تھی، تو اگر وہ شخص نیکی کرنے والا ہوگا، تو قبر کو جواب دینے والا اس شخص کی طرف سے یہ جواب دے گا اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر یہ شخص نیکی کا حکم دیتا ہوتا اور برائی سے منع کرتا ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے ہیں تو قبر یہ کہے گی کہ ایسی صورت میں، میں اس کے لئے سرسبز ہو جاؤں گی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) اس کا جسم نورانی ہوجائے گا، اور اس کی روح تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں اوپر چلی جائے گی‘‘۔ ابن عائذ نے ان سے دریافت کیا: اے ابوحجاج! فراد سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ شخص جو کبھی پاؤں آگے کر دیتا ہے، اور کبھی پیچھے کر دیتا ہے، جس طرح اے میرے بھانجے! تم بھی چلتے ہو، راوی بیان کرتے ہیں: وہ اس دن (عمده) لباس پہن کر تیار ہوئے تھے۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابو مریم ہے، اور اس میں اس کا اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعف پا یا جا تا ہے۔
أبي الحجاج الثمالي
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [The door of the grave discourse] · Hadith 4251
