مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْإِسْرَاءِ] · حديث 236
236 - عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُسْرِيَ بِكَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِكَ؟ قَالَ: " صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الْعَتَمَةِ بِمَكَّةَ مُعْتِمًا، فَأَتَانِي جِبْرِيلُ بِدَابَّةٍ بَيْضَاءَ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيَّ، فَأَدَارَهَا بِأُذُنِهَا حَتَّى حَمَلَنِي عَلَيْهَا، فَانْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى أَرْضٍ ذَاتِ نَخْلٍ. قَالَ: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: صَلِّ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَكِبْنَا. قَالَ لِي: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ: صَلَّيْتَ بِيَثْرِبَ، صَلَّيْتَ بِطَيْبَةَ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي، تَضَعُ حَافِرَهَا حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، حَتَّى بَلَغْنَا أَرْضًا بَيْضَاءَ. قَالَ لِي: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: صَلِّ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَكِبْنَا. قَالَ: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ وَرَسُولُهُ. قَالَ: صَلَّيْتَ بِمَدْيَنَ صَلَّيْتَ عِنْدَ شَجَرَةِ مُوسَى. ثُمَّ انْطَلَقَتْ تَهْوِي بِنَا تَضَعُ حَافِرَهَا - أَوْ يَقَعُ حَافِرُهَا - حَيْثُ أَدْرَكَ طَرْفُهَا، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا. قَالَ: انْزِلْ، فَنَزَلْتُ، فَقَالَ: صَلِّ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَكِبْنَا فَقَالَ: أَتَدْرِي أَيْنَ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ! قَالَ: صَلَّيْتَ بِبَيْتِ لَحْمٍ حَيْثُ وُلِدَ عِيسَى الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ مِنْ بَابِهَا الثَّامِنِ، فَأَتَى قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ فَرَبَطَ دَابَّتَهُ، وَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ مِنْ بَابٍ فِيهِ تَمْثُلُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَصَلَّيْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ - قَالَ ابْنُ زِبْرِيقٍ - ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ، أُرْسِلَ إِلَيَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَعَدَلْتُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ هَدَانِيَ اللَّهُ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَشَرِبْتُ حَتَّى قَدَعْتُ بِهِ جَبِينِي، وَبَيْنَ يَدَيْ شَيْخٍ مُتَّكِئٍ، فَقَالَ: أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ، أَوْ قَالَ: بِالْفِطْرَةِ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ الْوَادِيَ الَّذِي بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا جَهَنَّمُ تَنْكَشِفُ عَنْ مِثْلِ الزَّرَابِيِّ ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَهَا؟ قَالَ: " مِثْلُ - وَذَكَرَ شَيْئًا ذَهَبَ عَنِّي -. ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لِقُرَيْشٍ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: هَذَا صَوْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كُنْتَ اللَّيْلَةَ، فَقَدِ الْتَمَسْتُكَ فِي مَكَانِكَ فَلَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، فَصِفْهُ لِي، فَفُتِحَ لِي شِرَاكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، لَا يَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ عَنْهُ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: انْظُرُوا إِلَى ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ اللَّيْلَةَ! قَالَ: " نَعَمْ، وَقَدْ مَرَرْتُ بِعِيرٍ لَكُمْ فِي مَكَانِ كَذَا، قَدْ أَضَلُّوا بَعِيرًا لَهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُسَيِّرُهُمْ لَكُمْ: يَنْزِلُونَ بِكَذَا، ثُمَّ يَأْتُونَكُمْ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، يَقَدُمُهُمْ جَمَلٌ آدَمُ عَلَيْهِ مَسْحٌ أَسْوَدُ وَغِرَازَتَانِ سَوْدَاوَتَانِ "، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَشْرَفَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ أَقْبَلَتِ الْعِيرُ يَقْدُمُهُمْ ذَلِكَ الْجَمَلُ كَالَّذِي وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِيهِ: " قَدْ أَخَذَ صَاحِبُكَ الْفِطْرَةَ، وَإِنَّهُ لَمَهْدِيٌّ. وَقَالَ فِي وَصْفِ جَهَنَّمَ كَيْفَ وَجَدْتَهَا؟ قَالَ: مِثْلَ الْحَمَّةِ السُّخْنَةِ ". وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ.
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس رات آپ کو سیر کروائی گئی ، تو وہ سیر کیسے کروائی گئی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ میں عشاء کی نماز ادا کی، اس کے بعد جبرائیل میرے پاس سفید رنگ کا ایک جانور لے کر آئے ، جو گدھے سے کچھ بڑا تھا اور خچر سے کچھ چھوٹا تھا، اس ( جانور) نے میرے سامنے شوخی کی، تو جبرائیل نے اس کے کان مروڑے ، یہاں تک کہ میں اس پر سوار ہو گیا، تو وہ ہمیں لے کر روانہ ہوا، جس کا پاؤں وہاں پڑتا تھا جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، یہاں تک کہ ہم ایک سرزمین پر پہنچے، جہاں کھجوروں کے بہت باغات تھے، جبرائیل نے کہا آپ اتریں ، میں اتر گیا ، پھر انہوں نے کہا: آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہو گئے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: کیا آپ جانتے ہیں ، آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ بہتر جانتا ہے، انہوں نے بتایا : آپ نے یثرب میں نماز ادا کی ہے ، آپ نے " طیبہ : میں نماز ادا کی ہے۔ پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا، اس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا، جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی، یہاں تک کہ ہم لوگ ایک سفید زمین تک پہنچ گئے، تو جبریل نے مجھے سے کہا: آپ اتریں ! میں اتر گیا، پھر انہوں نے کہا آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ جانتے ہیں ، آپ نے کہا ں نماز ادا کی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ( شاید یہاں " اس کا رسول " کے الفاظ اضافی ہیں ، یہ اضافہ کا تب یا کمپوزر کی غلطی ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے جملہ میں ، اور اس کے بعد والے جملے میں صرف یہ الفاظ ہیں: " اللہ بہتر جانتا ہے" ) جبرائیل نے بتایا : آپ نے " مدین " میں حضرت موسیٰ علیہ السلام والے درخت کے پاس نماز ادا کی ہے، پھر وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا ، اس کا ایک قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی، پھر ایک مقام پر پہنچ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ نیچے اتریں ! میں نیچے اترا! تو انہوں نے کہا : آپ نماز ادا کیجئے ! میں نے نماز ادا کی ، پھر ہم سوار ہو گئے ، انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے نماز کہاں ادا کی ہے؟ میں نے کہا اللہ بہتر جانتا ہے، انہوں نے بتایا : آپ نے " بیت اللہم " میں نماز ادا کی ہے، جہاں حضرت عیسیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے، پھر وہ مجھے کے کر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم آٹھویں دروازے سے شہر میں داخل ہوئے ، وہ مسجد کے قبلہ کی سمت والے حصے کی طرف آئے ،ا ور وہاں انہوں نے جانور کو باندھ دیا، ہم مسجد میں ایسے دروازے سے داخل ہوئے، جس میں سورج اور چاند کی تصویر تھی، جہاں اللہ کو منظور تھا، وہاں میں نے مسجد میں نماز ادا کی۔ ( یہاں ابن زبریق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) پھر میرے پاس دو بر تن لائے گئے ان میں سے ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا، وہ دونوں میری طرف بھیجے گئے تھے، میں نے ان دونوں کو برابر سمجھ رہا تھا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نصیب کی ، تو میں نے دودھ کو حاصل کر لیا، اور اسے پی لیا، یہاں تک میری پیشانی پر اس کے اثرات محسوس ہوئے، میرے سامنے ایک عمر رسیدہ صاحب ٹھیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا : تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ میں شہر میں موجود وادی کے پاس آیا ، تو وہاں جہنم یوں سامنے آئی جیسے وہ بچھونا ہوتا ہے۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اسے کیسا پا یا؟ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات ذکر کی تھی، وہ مجھے بھول گئی ہے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ) میرا گزر فلاں مقام پر قریش کے اونٹ کے پاس سے ہوا ، ان لوگوں کا اونٹ گم ہو چکا تھا، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا، تو ان لوگوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ تو ( حضرت ) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز ہے۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ) پھر میں صبح ہونے سے پہلے مکہ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آگیا، ابو بکر میرے پاس آیا، اور بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! گزشتہ رات آپ کہاں تھے ؟ میں آپ کی تلاش میں آپ کے گھر آیا ، لیکن میں نے آپ کو نہیں پا یا، تو میں نے ( اس کو )بتایا گزشتہ رات میں بیت المقدس گیا ہوا تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ تو ایک ماہ کی مسافت کے فاصلے پر ہے، آپ اس کا نقشہ میرے سامنے بیان کریں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اسے میرے سامنے پیش کیا گیا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا ، لوگوں نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا ، میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا، تو ابو بکر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، جبکہ مشرکین نے یہ کہا: تم ابو کبشہ کے صاحبزادے کی طرف دیکھو ! ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ گزشتہ رات بیت المقدس گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! فلاں مقام پر میں تمہارے اونٹ کے پاس سے بھی گزرا تھا، ان لوگوں ( یعنی تمہارے اونٹوں کے چرواہوں ) نے فلاں ، فلاں ، مقام پر اپنے اونٹ کو گم کر دیا تھا، میں تمہیں ان کے بارے میں بتا تا ہوں ، انہوں نے فلاں جگہ پر پڑاؤ کیا ہو گا اور پھر وہ فلاں ، فلاں دن تمہارے پا س آ جائیں گے، ان کے آگے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو گا، جس پر سیاہ لگام نما چیز ہو گی اور سیاہ رنگ کی دو رکابیں ہوں گی۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مخصوص دن آیا ، تو لوگوں نے جائزہ لینا شروع کیا ، یہاں تک کہ نصف النہار کے قریب وہ قافلہ آگیا اور اس کے آگے وہی اونٹ تھا، جس طرح کے اونٹ کا نقشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا تھا۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: " تمہارے آقا نے فطرت کو اختیار کیا ہے ، بے شک یہ ہدایت کا مرکز ہیں" اس طرح جہنم کی صفت کے بارے میں ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : " صحابہ نے دریافت کیا: آپ نے اسے کیسا پا یا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گرم پانی کے چشمے کی مانند " اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن العال ہے ، ویسے یحییٰ بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور امام نصائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
قُلْنَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،
Hadith 236
