مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ] · حديث 670
670 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعْصُوبًا رَأْسُهُ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الْكُتُبُ الَّتِي يَبْلُغُنِي أَنَّكُمْ تَكْتُبُونَهَا، أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ يُوشِكُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِكِتَابِهِ، فَيُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا ; فَلَا يَتْرُكُ فِي وَرَقَةٍ وَلَا فِي قَلْبٍ مِنْهُ حَرْفًا إِلَّا ذَهَبَ بِهِ "، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَ الْمَجْلِسَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ؟ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا أَبْقَى فِي قَلْبِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھ ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا : " ان تحریروں کا کیا معاملہ ہے ؟ جن کے بارے میں مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے ، کہ تم انہیں نوٹ کرتے ہو ، کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ نوٹ کیا جائے گا ؟ عنقریب ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہوگا ، اور پھر اس کتاب کو رات کے وقت اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) کسی ورق میں یا کسی دل میں اس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا، مگر یہ اسے اٹھا لے گا " حاضرین میں سے کسی نے کہا : یا رسول اللہ ! پھر مومن مردوں اور مومن خواتین کا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا، اس کے دل میں لا الہ الا للہ باقی رہنے دے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے ، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ
Hadith 670
