مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ] · حديث 1680
1680 - عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ: عِيَاضٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «عَلَيْكُمْ بِذِكْرِ رَبِّكُمْ، وَصَلُّوا صَلَاتَكُمْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُضَاعِفُ لَكُمْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا بَعْدَ هَذَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام حضرت عیاض رضی اللہ عنہ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " تم پر لازم ہے کہ اپنے پروردگار کو یاد کرتے رہو، اور تم نماز اس کے ابتدائی وقت میں اد اکر لینا ، اللہ تعالیٰ اس کا دگنا اجر عطا کرے گا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے، اور وہ " ضعیف " ہے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں احادیث آگے آئیں گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کرتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا۔
فِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ
Hadith 1680
