مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي مَوْتِ الْأَوْلَادِ] · حديث 3968
3968 - عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَمَّا مَاتَ ابْنُ آدَمَ قَالَ آدَمُ لِامْرَأَتِهِ حَوَّاءَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ ابْنُكِ. قَالَتْ: وَمَا الْمَوْتُ؟ قَالَ: لَا يَطْعَمُ، وَلَا يَشْرَبُ، وَلَا يَبْطِشُ، وَلَا يَمْشِي. فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ صَرَخَتْ فَقَالَ: الرَّنَّةُ عَلَيْكِ وَعَلَى بَنَاتِكِ، وَأَنَا وَبَنِيَّ بُرَآءُ. فَصَارَتِ الْمَوَاتِيمُ عَلَى النِّسَاءِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ سَيَّارٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بچے کا انتقال ہوا تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی زوجہ سیدہ حواء رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہارا بیٹا مر گیا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : موت کیا ہوتی ہے؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : اب یہ نہ کچھ کھائےگا ‘ اور نہ کچھ پیئے گا نہ پکڑے گا نہ چلے گا جب حضرت آدم علیہ السلام نے یہ بات کہی تو سید ہ حواء رضی اللہ عنہ نے چیخ ماری تو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: اب تم پراورتمہاری بیٹیوں پر رونا دھونا مقرر ہو گیا ہے ‘ اور میں اور میرے بیٹے اس سے لاتعلق ہوں گے تو اس کے بعد خواتین ( کسی میت پرز یادہ ) روتی پیٹتی ہیں‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن سیار ہے ‘ اور وہ متروک ہے۔
جَابِرٍ
Hadith 3968
