مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ] · حديث 4815
4815 - عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْأُمَوِيِّ قَالَ: «قِيلَ لِعَائِشَةَ: رُئِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ. قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكَ مِنْ ذَاكَ؟ لِمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سعید بن عمروا موی بیان کرتے ہیں : سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کہا گیا: اس مہینے میں انتیس کا چاند نظر آ گیا ہے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں اس بات پر کیا حیرانگی ہورہی ہے؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتیس روزے اس سے زیادہ مرتبہ رکھے ہیں جتنی مرتبہ ہم نے تیس روزے رکھے ہیں۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ امام احمد کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
«قِيلَ لِعَائِشَةَ: رُئِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ. ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ،
Hadith 4815
