مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي كُتَّابِ الْوَحْيِ] · حديث 686
686 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَكْتَبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ، فَكَانَ يَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ، فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِهِ عِنْدَهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى بَعْضِ الْمُلُوكِ، فَيَكْتُبُ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُطَيِّنَهُ، ثُمَّ يَخْتِمُ، لَا يَقْرَأُ لِأَمَانَتِهِ عِنْدَهُ، وَاسْتَكْتَبَ أَيْضًا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَكَانَ يَكْتُبُ [الْوَحْيَ]، وَيَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ أَيْضًا، فَكَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاحْتَاجَ أَنْ يَكْتُبَ [إِلَى بَعْضِ أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ وَالْمُلُوكِ، وَيَكْتُبَ] الِإِنْسَانٍ كِتَابًا يُقَطِّعُهُ - أَمَرَ مَنْ حَضَرَ أَنْ يَكْتُبَ، وَقَدْ كَتَبَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَالْمُغِيَرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَغَيْرُهُمْ مِمَّنْ قَدْ سَمَّى مِنَ الْعَرَبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ.
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے تحریر لکھوایا کرتے تھے ، بادشاہوں کی طرف بھیجے جانے والے خطوط وہ لکھ کر دیتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں وہ اتنے قابل اعتماد شمار ہوتے تھے ، کہ بعض بادشاہوں کو خط انہوں نے از خود لکھ دیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم دیا کر اس کی سیاہی کو پختہ کر کے اس پر مہر لگا دی جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پڑھا نہیں ، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک قابل اعتماد تھے ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی کتابت کرواتے تھے ، وہ وحی بھی نوٹ کرتے تھے ، اور بادشاہوں کی طرف مکتوب بھی تحریر کرتے تھے ، جب کبھی حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ غیر موجود ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ( لشکروں کے کسی امیر یا کسی بادشاہ کی طرف ) کوئی تحریر بھجوانے کی ضرورت پیش آتی ، تو آپ موجود افراد میں سے کسی کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ تحریر کر دے ۔ حضرت عمر بن خطاب ، حضرت عثمان بن عفان ، حضرت علی بن ابو طالب ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت مغیرہ بن شعبہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان ، حضرت خالد بن سعید بن العاص اور دیگر حضرت رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے لیے کتابت کے فرائض سر انجام دیے ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) انہوں نے ان دیگر افراد کے نام بیان کیے تھے ، جن کا تعلق عربوں سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے امام بخاری ، ابن مدینی اور ابو زرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ یحییٰ بن معین اور ابو حاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
Hadith 686
