مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ عَرْضِ الصَّدَقَةِ عَلَى أَهْلِهَا] · حديث 4570
4570 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ قَدِمَ الْجَابِيَةَ - جَابِيَةَ دِمَشْقَ - ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ مَقَامِي هَذَا فَلَا يَبْقَيَنَّ لِأَحَدٍ لَهُ حَقٌّ فِي الصَّدَقَةِ إِلَّا أَتَانِي. فَلَمْ يَأْتِهِ مِمَّنْ حَضَرَ إِلَّا رَجُلَانِ فَأَمَرَ لَهُمَا فَأُعْطِيَا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَصْلَحَ اللَّهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا هَذَا الْغَنِيُّ الْمُتَعَقِّدُ بِأَحَقَّ بِالصَّدَقَةِ مِنْ هَذَا الْفَقِيرِ الْمُتَعَفِّفِ؟ قَالَ عُمَرُ: وَيْحَكَ كَيْفَ لَنَا بِأُولَئِكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ الْجَابِيَةِ، وَفِيهِ أَبُو سُكَيْنَةَ الْحِمْصِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
عبداللہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ جابیہ تشریف لا ئے، دمشق والے جابیہ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: جب میں اپنی اس جگہ سے مڑوں گا، تو صدقہ کے بارے میں کسی بھی شخص کا حق باقی نہیں رہنا چاہیے ہر شخص میرے پاس آجائے تمام حاضرین ان کے پاس آگئے صرف دو آدمی نہیں آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا ان دونوں کو بھی ادا ئیگی کردی گئی تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا الله تعالیٰٰ امیر المومنین کو ٹھیک رکھے، ایسا خوشحال شخص جو مال جمع کرتا ہو، وہ اِس صدقہ کے بارے میں، اس فقیر سے زیادہ وقت نہیں رکھتا، جو مانگنے سے بچتا ہو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہوان کے عوض میں ہمارے لئے کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے جابیہ والے واقعے کے ضمن میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسکینہ حمصی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔
عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Hadith 4570
