مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ] · حديث 2741
2741 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَأَهْلُ الْكِبْرِيَاءِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ وَمِنْهَا طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهَا أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَفِي بَقِيَّةِ الطُّرُقِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : کہ جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ پڑھ لیتے تھے تو پھر آپ یہ پڑھتے تھے : " اے اللہ اے ہمارے پروردگار حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جو آسمانوں کو بھر دے جو زمین کو بھر دے اور جو ان کے درمیان موجود جگہ کو بھر دے اور ان کے علاوہ جس چیز کو تو چاہے ، اس کو بھر دے تو ثناء کا اہل ہے کبریائی کا اہل ہے بزرگی کا اہل ہے ، جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کوشش نفع نہیں دیتی ہے " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک روایت ایسی ہے جس کے رجال " صحیح " کے رجال ہیں تاہم اس کی سند مٰں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ب کہ باقی طرق میں محمد بن ابو لیلیٰ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إذَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Hadith 2741
