مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا] · حديث 3315
3315 - عَنْ ثَوْبَانَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْضَ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ!؟ قَالَ: " تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَنْظُرُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالرَّحْمَةِ إِلَى خَلْقِهِ، وَهِيَ صَلَاةٌ كَانَ يُحَافِظُ عَلَيْهَا آدَمُ وَنُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَتْرُوكٌ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ.
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو مستحب سمجھتے تھے ' کہ نصف النہار کے بعد کچھ (نفل یعنی نست ) نماز ادا کریں' سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اس گھڑی میں نماز کو مستحب سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس گھڑی میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں' اور اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف نظر کرتا ہے' یہ ایک ایسی نماز ہے ' جسے حضرت آدم ' حضر ت نوح ' حضرت ابراہیم ' حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے باقاعدگی کے ساتھ ادا کیا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی عتبہ سکن ہے' امام دار قطنی فرماتے ہیں: یہ متروک ہے' ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب '' الثقات " میں کیا ہے' وہ فرماتے ہیں: یہ غلطی بھی کر جاتا ہے' اور (دوسرے راویوں کے) برخلاف بھی نقل کر دیتا ہے۔
ثَوْبَانَ،
Hadith 3315
