مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابٌ فِي مَالِ الْعَبْدِ] · حديث 6773
6773 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ مَالَكَ لِي، وَلَكِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُ لَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نَعِيمٍ النَّخَعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَنَسَبَهُ أَحْمَدُ إِلَى الْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے اپنے ایک غلام کوآزادکیا اور پھر فرمایا: اگرچہ تمہارا مال میری ملکیت ہے، لیکن میں اسے تمہارے لئے چھوڑتا ہوں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم نخعی ہے، جسے ابن حبان اور ابوحاتم نے ثقہ قراردیا ہے، امام احمد نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
أَبُو حَاتِمٍ، وَنَسَبَهُ أَحْمَدُ إِلَى الْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. ← ثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ← فِيهِ أَبُو نَعِيمٍ النَّخَعِيُّ ← أَمَا إِنَّ مَالَكَ لِي، وَلَكِنِّي قَدْ تَرَكْتُهُ لَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ،
Hadith 6773
