مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي كَرَامَةِ الْمَسَاجِدِ وَمَا نُهِيَ عَنْ فِعْلِهِ فِيهَا مِنْ تَشْبِيكِ الْأَصَابِعِ وَإِقَامَةِ الْحُدُودِ وَالْبَيْعِ وَنَحْوِ ذَلِكَ] · حديث 2046
2046 - عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَا تُسَلُّ السُّيُوفُ وَلَا تُنْثَرُ النَّبْلُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُحْلَفُ بِاللَّهِ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُمْنَعُ الْقَائِلَةُ فِي الْمَسَاجِدِ مُقِيمًا وَلَا ضَيْفًا، وَلَا تُبْنَى بِالتَّصَاوِيرِ وَلَا تُزَيَّنُ بِالْقَوَارِيرِ، فَإِنَّمَا بُنِيَتْ بِالْأَمَانَةِ وَشُرِّفَتْ بِالْكَرَامَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ جَبَلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " مسجد میں تلوار کو سونتا نہ جائے نہ نیزے کو لہرایا جائے اور مساجد میں اللہ کے نام کا حلف نہ اٹھا یا جائے اور مساجد میں کسی شخص کو آرام کرنے سے منع نہ کیا جائے خواہ وہ مقیم ہو یا مہمان ہو اور( مساجد میں ) تصاویر نہ بنائی جائیں اور شیشے کے ذریعے آراستہ نہ کیا جائے ، انہیں امانت کے لئے ( یعنی عبادت کی ادائیگی کے لئے ) بنایا گیا ہے، اور کرامت کے ذریعے شرف عطا کیا گیا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن جبلہ ہے ، اور وہ " ضعیف " ہے۔
جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،
Hadith 2046
