مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي تَعْلِيمِ مَنْ لَا يَعْلَمُ] · حديث 748
748 - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَأَثْنَى عَلَى طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ لَا يُفَقِّهُونَ جِيرَانَهُمْ، وَلَا يُعَلِّمُونَهُمْ، وَلَا يَعِظُونَهُمْ، وَلَا يَأْمُرُونَهُمْ، وَلَا يَنْهَوْنَهُمْ. وَمَا بَالُ أَقْوَامٍ لَا يَتَعَلَّمُونَ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَلَا يَتَفَقَّهُونَ، وَلَا يَتَّعِظُونَ. وَاللَّهُ لَيُعَلِّمَنَّ قَوْمٌ جِيرَانَهُمْ، وَيُفَقِّهُونَهُمْ وَيَعِظُونَهُمْ، وَيَأْمُرُونَهُمْ، وَيَنْهَوْنَهُمْ، وَلْيَتَعَلَّمَنَّ قَوْمٌ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَيَتَفَقَّهُونَ، وَيَتَفَطَّنُونَ، أَوْ لَأُعَاجِلَنَّهُمُ الْعُقُوبَةَ "، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ قَوْمٌ: مَنْ تَرَوْنَهُ عَنَى بِهَؤُلَاءِ؟ قَالَ: الْأَشْعَرِيِّينَ، هُمْ قَوْمٌ فُقَهَاءُ، وَلَهُمْ جِيرَانٌ جُفَاةٌ مِنْ أَهْلِ الْمِيَاهِ وَالْأَعْرَابِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ قَوْمًا بِخَيْرٍ، وَذَكَرْتَنَا بِشَرٍّ، فَمَا بَالُنَا؟ فَقَالَ: " لَيُعَلِّمَنَّ قَوْمٌ جِيرَانَهُمْ، وَلَيُفَقِّهَنَّهُمْ، وَلَيُفَطِّنَنَّهُمْ، وَلَيَأْمُرَنَّهُمْ، وَلَيَنْهَوْنَهُمْ، وَلَيَتَعَلَّمْنَ قَوْمٌ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَيَتَفَطَّنُونَ، وَيَتَفَقَّهُونَ، أَوْ لَأُعَاجِلَنَّهُمُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُفَطِّنُ غَيْرَنَا؟ فَأَعَادَ قَوْلَهُ عَلَيْهِمْ، وَأَعَادُوا قَوْلَهُمْ: أَنُفَطِّنُ غَيْرَنَا؟ فَقَالَ ذَلِكَ أَيْضًا، فَقَالُوا: أَمْهِلْنَا سَنَةً، فَأَمْهَلَهُمْ سَنَةً لِيُفَقِّهُونَهُمْ، وَيُعَلِّمُونَهُمْ، وَيُفَطِّنُونَهُمْ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ} [المائدة: 78] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: ارْمِ بِهِ. وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
علقمہ بن سعد بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :"ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئی مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی تعریف بیان کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو دین کی سمجھ بوجھ نہیں سکھاتے ہیں ، انہیں تعلیم نہیں دیتے ہیں ، انہیں وعظ نہیں کرتے ہیں ، انہیں (نیکی کا ) حکم نہیں دیتے ہیں، انہیں (برائی سے ) منع نہیں کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل نہیں کرتے ہیں ، سمجھ بوجھ حاصل نہیں کرتے ہیں نصیحت حاصل نہیں کرتے ہیں ، اللہ کی قسم !ایک قوم کے لوگ اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دیں گے ، سمجھ بوجھ دینگے ، انہیں نصیحت کریں گے ، انہیں (نیکی کا ) حکم دیں گے ، انہیں (برائی سے ) منع کریں گے اور دوسرے لوگ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل کریں گے ، سمجھ بوجھ حاصل کریں گے ، فہم حاصل کریں گے ، یا پھر انہیں سزا دوں گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے آ گئے ، لوگوں نے دریافت کیا : تم، کیا سمجھتے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کون سے لوگ مراد لیے ہیں ؟ تو کسی نے جواب دیا : اشعر قبیلے کے لوگ ( مراد لیے ہیں )کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں ، جو ( دین کی تعلیمات کی ) سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، جبکہ ان کے پڑوس میں مختلف پانیوں کے پاس اور دیہات میں رہنے والے لوگ ایسے ہیں جو علم نہیں رکھتے ہیں ، اشعر قبیلے کے لوگوں کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ !آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر بھلائی کے ساتھ کیا ہے اور ہمارا ذکر برائی کے ساتھ کیا ہے ، ہمارا کیا معاملہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دے گی ، انہیں سمجھ بوجھ دے گی ، انہیں سکھائے گی ، انہیں حکم دے گی ، انہیں منع کرے گیا اور دوسری قوم اپنے پڑسیوں سے علم حاصل کرے گی ، سیکھے گی ، سمجھ بوجھ حاصل کرے گی (اگر ایسا نہ ہوا ) تو میں انہیں دنیا میں سزا دوں گا ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ !کیا ہم دوسروں کو سکھائیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے اپنی بات دہرائی ، ان لوگوں نے بھی اپنی ابت دہرائی ، کیا ہم دوسروں کو سکھائیں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی بات ارشاد فرمائی ، ان لوگوں نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں ایک سال کی مہلت عطا کریں ! تاکہ وہ لوگ ان دوسروں لوگوں کو سمجھ بوجھ دیں ، تعلیم دیں اور سکھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : "بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ، ان پر داؤد کی زبانی لعنت کی گئی "۔۔۔الآیۃ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن معروف ہے امام بخاری فرماتے ہیں : اس کو پھینک دو !امام احمد نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ابن عدی فرماتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on Teaching Those Who Do Not Know] · Hadith 748
