مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ] · حديث 1707
1707 - عَنْ أَبِي أَرْوَى قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَهِيَ عَلَى قَدْرِ فَرْسَخَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو وَاقَدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
حضرت ابواروی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کر تا تھا، پھر میں سورج غروب ہونے سے پہلے " ذولحلیفہ " آ جاتا تھا، اور یہ جگہ فرسخ کے فاصلے پر ہے۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد ابو واقد ہے، جسے امام احمد نے "ثقہ " قرار دیا ہے، جب کہ یحییٰ بن معین امام دار قطنی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
«كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَاةَ الْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ ← أَبِي أَرْوَى
Hadith 1707
