مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرِ فِيهَا] · حديث 2788
2788 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ «أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ أَمَاكِنَهُ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ وَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ; فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: احْفَظُوا تَكْبِيرِي وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذِي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَتَأْتِي بَقِيَّتُهُ فِي الزُّهْدِ فِي الْمَحَبَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت ابو مالک اشعری نے اپنی قوم کے افراد کو جمع کیا اور بولے اے اشعر قبیلے کے افراد تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ اور اپنی خواتین اور اپنے بچوں کو بھی اکٹھا کر لو تاکہ میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نماز کے طریقے کی تعلیم دوں وہ لوگ اکٹھے ہو گئے انہوں نے اپنی خواتین اور بچوں کو بھی اکٹھا کر لیا تو حضرت ابو مالک اشعری نے انہیں کر کے دکھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے انہوں نے وضو کے تمام اعضاء کا مکمل حساب رکھا یہاں تک کہ سایہ ڈھل گیا اور سایہ ٹوٹ گیا تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اذان دی مردوں نے امام کے قریب ترین صف بنا لی پھر بچوں نے صف بنائی اور ان کے پیچھے خواتین نے صف بنائی جو بچوں کی صف کے پیچھے تھی پھر حضرت ابو مالک اشعری نے نماز پڑھائی وہ آگے بڑھے انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی اور سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کے ساتھ ایک سورت پڑھی انہوں نے ان دونوں کو پست آواز میں پڑھا پھر انہوں نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے اور سبحان اللہ و بحمدہ تین مرتبہ پڑھا پھر انہوں نے سمع لمن حمدہ پڑھا اور سیدھے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے تکبیر کہے اور سجدے میں چلے گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے سر کا اٹھا لیا پھر تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہی اور سیدھے کھڑے ہو گئے تو یوں ان کی پہلی رکعت میں چھ تکبیریں تھیں پھر جب وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے اس وقت بھی تکبیر کہی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے لوگوں کی طرف ر خ کیا اور بولے میرے تکبیر کہنے کو یاد رکھنا اور میرے رکوع اور سجود کے طریقے کا علم حاصل کر لو کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کا وہ طریقہ ہے ، جس طریقے کے مطابق آپ ہمیں دن کے وقت نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے اس روایت کا بقیہ حصہ محبت سے متعلق باب میں زہد سے متعلق بیان میں آئے گا اگر اللہ نے چاہا یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the description of prayer and declaring the takbeer about it] · Hadith 2788
