مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6850
6850 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ تَمْرَتَيْنِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي» الْأُخْرَى. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ ثُفْرُوقَةً فِيهَا تَمْرَتَانِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي تَمْرَةً». وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں پائیں آپ نے ایک کهجور لے لی اور دوسری مجھے دےدی۔ یہ روایت امام بزارنے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جارہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ’’ثقروفہ‘‘ پایا(ثقر وفہ سے مراد کھجور کا ایسا گچھا ہے ،جس میں سے کھجوریں کھالی گئی ہوں اور کچھ باقی رہ گئی ہوں )جس میں دو کھجور یں تھیں، تو ایک کھجور آپ نے لے لی اور ایک مجھے عطا کردی۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طائفی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔
أَبُو يَعْلَى ← «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَوَجَدَ تَمْرَتَيْنِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي» الْأُخْرَى. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ
Hadith 6850
