مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِيمَنْ يُغْوِيهِمُ الشَّيْطَانُ] · حديث 448
448 - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ أَبِي نُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِحَيٍّ فَبِتْنَا فِيهِ، فَإِذَا الرَّاعِي قَدْ جَاءَ إِلَى أَهْلِ الْحَيِّ يَسْعَى يَقُولُ: لَسْتُ أَرْعَى لَكُمْ، فَإِنَّ الذِّئْبَ يَجِيءُ كُلَّ لَيْلَةٍ فَيَأْخُذُ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ، وَالصَّنَمُ يَنْظُرُ لَا يُنْكِرُ وَلَا يُغَيِّرُ، فَقَالُوا: أَقِمْ عَلَيْنَا - أَحْسَبُهُ قَالَ: حَتَّى نَأْتِيَهُ - فَأَتَوْهُ، فَتَكَلَّمُوا حَوْلَهُ. قَالَ لِلرَّاعِي: أَقِمِ اللَّيْلَةَ. قَالَ: إِنِّي أُقِيمُ اللَّيْلَةَ حَتَّى نَنْظُرَ. قَالَ: فَبِتْنَا لَيْلَتَنَا، فَلَمَّا كَانَ صَلَاةُ الْغَدَاةِ إِذِ الرَّاعِي يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِ الْقَرْيَةِ يَقُولُ لَهُمْ: الْبُشْرَى، أَلَا تَرَوْنَ الذِّئْبَ مَرْبُوطًا بَيْنَ يَدَيِ الْغَنَمِ بِغَيْرِ وِثَاقٍ؟ فَجَاءُوا وَجِئْنَا مَعَهُمْ. قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، هَكَذَا فَاصْنَعْ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ أَبِي الْحَدِيثَ فَقَالَ: " يَتَلَعَّبُ بِهِمُ الشَّيْطَانُ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَمَدَارُهُ عَلَى أَزْهَرَ بْنِ سِنَانٍ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَحَادِيثُهُ صَالِحَةٌ لَيْسَتْ بِالْمُنْكَرَةِ جِدًّا.
معاویہ بن قرہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادے سے روانہ ہوا، راستہ میں کسی جگہ ہمارا گزر ایک قبیلے کے پاس سے ہوا ، رات گزارنے کے لیے ہم وہاں ٹھہر گئے ، ایک چرواہا دوڑتا ہوا قبیلے کے افراد کے پاس آیا ، اور بولا : میں تم لوگوں کے جانور نہیں چراؤں گا، کیونکہ روزانہ رات کے وقت بھیڑیا آتا ہے اور ایک بکری لے جاتا ہے ، جبکہ بت دیکھتا ہے ، لیکن وہ نہ تو انکار کرتا ہے ، اور نہ ہی کوئی تبدیلی کرتا ہے ان لوگوں نے کہا: تم ہمارے ہاں رہو ! راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہم اس بت کے پس چلتے ہیں ، وہ لوگ اس بت کے پاس آئے ، انہوں نے اس کے ارد گرد کوئی بات چیک کی ، پھر انہوں نے چرواہے سے کہا: آج رات ٹھہرے رہو ! اس چرواہے نے کہا: آج رات ٹھہر جاتا ہوں ،تاکہ یہ دیکھوں کہ کیا بنتا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ہم بھی اس رات وہاں ٹھہر گئے ، اگلے دن صبح کی نماز کے وقت چرواہا بھاگتا ہوا بستی والوں کی طرف آیا اور ان سے کہنے لگا : خوشخبری ہے ! کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ بھیڑیا کسی بندش کے بغیر بکریوں کے آگے بندھا پڑا تھا ، پھر وہ لوگ آئے ان کے ساتھ ہم بھی گئے راوی بیان کرتے ہیں : تو اس نے کہا : ٹھیک ہے تم اسی طرح کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھلوار کرتا ہے " ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کا مدار ، ازہر بن سنان نامی راوی پر ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث صالح ہیں اور زیادہ منکر نہیں ہیں۔
أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ
Hadith 448
