مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ حَجٌّ] · حديث 5683
5683 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ عَنْهُ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَإِنَّهُ دَيْنٌ عَلَيْهِ فَاقْضِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اس نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے وہ فرض حج نہیں کر سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم نے اس کی طرف سے اسے ادا کر دینا تھا ؟ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ بھی اس کے ذمہ لازم قرض ہے تم اسے ادا کرو۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
نَعَمْ ← رَسُولُ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ عَنْهُ؟ ← إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ؟ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Hadith 5683
