مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ التَّأْذِينِ لِلْفَوَائِتِ وَتَرْتِيبِهَا] · حديث 1914
1914 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَوَاتِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ: وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ( جنگ کے دوران ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا نہیں کرنے دی یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذا ں دی اور اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا پھر انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابو انیسہ ہے ، اور وہ محدثین کے نزدیک " ضعیف " ہے البتہ ابن عدی نے یہ کہا ہے ، اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا۔
شَغَلَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the abuse of missed misses and their order] · Hadith 1914
