مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ أَجْرِ الصَّدَقَةِ] · حديث 4619
4619 - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ. وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ. وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ ; كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرے ہیں: تین آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سو دینار تھے میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیے دوسرے شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس دس دینار تھے میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کردیا ہے تیسرے نے عرض کی: یارسول اللہ! میرے پاس ایک دینار تھا۔ میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’تم سب اجر میں برابر ہو تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزارنے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے۔
جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ أَحَدُهُمْ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
Hadith 4619
