مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ] ‹ بَابٌ فِي الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ] · حديث 6002
6002 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «اسْتَأْذَنَتْ قُرَيْشٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَتِيرَةِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعْتِرُ فِي رَجَبٍ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَعِتْرٌ كَعِتْرِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، وَلَكِنْ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَذْبَحَ لِلَّهِ [فَيَأْكُلَ] وَيَتَصَدَّقَ. فَلْيَفْعَلْ» ". وَكَانَ عِتْرُهُمْ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَذْبَحُونَ، ثُمَّ يَعْمِدُونَ إِلَى دِمَاءِ ذَبَائِحِهِمْ فَيَمْسَحُونَ بِهَا رُءُوسَ نُصُبِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیر ہ کے بارے میں اجازت مانگی۔ انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم رجب میں عتیر ہ کے طور پر ( جانورکوقر بانی کیا کرتے تھے )تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم زمانہ جاہلیت کی طرح عتیرہ کر نا چاہتے ہو؟ تم میں سے جوشخص چاہے وہ اللہ کے لئے ذبح کرے اس کو کھائےبھی اور صدقہ بھی کرے تو وہ ایسا کر لے۔ راوی بیان کر تے ہیں: ان لوگوں کاعتیر ہ کر نے کاطریقہ یہ تھا کہ وہ لوگ جانور ذبح کرتے تھے پھراپنے ذبیحہ کے خون کی طرف جا کر اسے اپنے بتوں کے سروں پر ملتے تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن ابوحبیبہ ہے ‘جسے یحییٰ بن معین نے ثقہ قراردیا ہے اورلوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے۔
«اسْتَأْذَنَتْ قُرَيْشٌ رَسُولَ اللَّهِ فِي الْعَتِيرَةِ فَقَالُوا: ← ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 6002
