مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَصَلَاةِ الْجَالِسِ] · حديث 2894
2894 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَرَآهُ يُصَلِّي وَيَسْجُدُ عَلَى وِسَادَةٍ فَنَهَاهُ وَقَالَ: " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ وَإِلَّا فَأَوْمَى إِيمَاءً وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَرَمَى بِهَا فَأَخَذَ عُودًا يُصَلِّي عَلَيْهِ فَرَمَى بِهِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضڑت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ، میں آپ کےساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہا تھا اور تکیہ پر سجدہ کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اسے منع کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اگٓر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ، تو سجدہ کر لو ورنہ اشارہ کر لو اور ( اشارہ کرے ہوئے) سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھک جاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابو یعلی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : " نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم ایک بیما ر کی عیادت کرنے کے لئے گئے آپ نے اسے ایک تکیہ پر نماز ادا کرتے ہوئے ( یعنی تکیہ پر سجدہ کرت ہوئے) ملاحظہ فرمایا تو تکیہ کو ایک طرف کر دیا وہ شخص لکڑی پکڑ کر اس کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا تو آپ نے اسے بھی ایک طرف کر دیا "۔ امام بزار کے رجال " صحیح " کے رجال ہیں ۔
معه فرآه يصلي ويسجد على وسادة فنهاه ← عَادَ رَسُولُ اللَّهِ مَرِيضًا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Hadith 2894
