مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ رَمَى الْجِمَارَ وَأَمْسَى وَلَمْ يَطُفْ] · حديث 5592
5592 - عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ - وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ - قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً وَقُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا. قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ قَالَ: خَيْرًا يَا أُمَّ قَيْسٍ، هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا أَحْرَمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ، فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں : سیّدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے یہ خاتون ان لوگوں کی پڑوسن تھیں وہ بیان کرتی ہیں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ بنواسد کے کچھ افراد کے ہمراہ میرے پاس سے نکلے قربانی کے دن شام کے وقت انہوں نے قمیضیں پہنی ہوئی تھیں جب وہ عشاء کے وقت میرے پاس واپس آئے تو ان کی قمیضیں ان کے ہاتھوں میں تھیں جنہیں ۔ انہوں نے اٹھایا ہوا تھا ( یعنی انہیں اتار دیا ہوا تھا ) وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نے کہا: اے عکاشہ تمہیں کیا ہوا ہے جب تم گئے تھے تو تم نے قمیضیں پہنی ہوئی تھیں اور جب تم واپس آئے ہو ‘ تو تم نے قمیضیں ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا: اے ام قیس خیر ہے یہ وہ دن ہے ‘ جس کے بارے میں ہمیں رخصت دی گئی تھی کہ جب ہم جمرات کو کنکریاں مار لیں گے تو ہم ہر اس چیز کے حوالے سے حلال ہو جائیں گے جس کے حوالے سے ہم نے احرام باندھا ہوا تھا البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے یہ اس وقت ہوگا کہ جب ہم بیت اللہ کا طواف کر لیں گے لیکن جب شام ہوگئی اور ہم نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا ‘ تو ہم جمرات کو کنکریاں مارنے سے پہلے دوبارہ احرام کی حالت میں آ گئے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے تو ہم نے ابھی طواف نہیں کیا اس لئے ہماری قمیصیں تمہیں نظر آ رہی ہیں ( کہ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہیں )۔ یہ روایت امام احمد نے اورامام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ ← أبي عبيدة بن عبد الله بن زمعة
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [A door by whom he stoned the pebbles, and he yesterday and did not float] · Hadith 5592
